جموں،22؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ اتر اور جنوبی کوریا نے جس طرح سے ’پرامن مذاکرات‘کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا وہ پوری دنیا کے لئے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے کہ پیچیدہ مسائل کا حل صرف پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔جموں ضلع کے ارنیا اور آر ایس پورہ سیکٹروں میں سرحد پار سے کی گئی فائرنگ سے متاثر ہوئے لوگوں سے ملیں محبوبہ نے کہا کہ ریاست کے لوگ انتہائی مشکل وقت سے گزرے ہیں وہ پرامن طریقے سے جینا چاہتے ہیں۔وزیر اعلی ہفتہ کو آر ایس پورہ سیکٹر کے منگو چاک علاقے میں ہوئی پاکستان کی فائرنگ میں مارے گئے ترسیم لال اور منجیت کور کے گھر گئیں۔انہوں نے وہاں لوگوں سے کہا کہ رمضان المبارک کے پاک مہینے میں سیکورٹی مہمات پر روک لگانے کے مرکز کے فیصلے سے ان لوگوں میں امید جاگی ہے جنہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مثبت جواب کی توقع کی تھی۔محبوبہ نے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ مسائل کے حل کے لئے پرامن مذاکرات کا سہارالے رہے ہیں کیونکہ سختی اور تشدد سے کچھ حاصل نہیں۔انہوں نے کہاکہ شمال اور جنوبی کوریا نے جس طرح سے پرامن مذاکرات کے راستے پر بڑھنے کا فیصلہ کیا، وہ پوری دنیا کے لئے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے کہ مسئلے کتنے بھی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، ان کا پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ تشددسے صرف نقصان ہی ہوتا ہے۔ وزیر اعلی نے سرحد پار سے فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے کی مالی مدد کی۔